ربط و ضبط

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - میل جول، دوستی۔ "انھوں نے زندگی بھر نہ امراء سے ربط ضبط بڑھایا، نہ ان سے فیض پانے کی کوشش کی۔"      ( ١٩٨٤ء، سراج اورنگ آبادی، ٦٩ ) ٢ - تنظیم یا انضباط کو ملحوظ و برقرار رکھنے کا عمل، نظم و نسق کی درستی و ترتیب۔ "سندھی زبان اس باہمی ربط و ضبط کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، سندھ اور نگاہ قدر شناس، ١٢٠ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'ربط' کے ساتھ 'و' بطور حرف عطف لگا کر عربی اسم 'ضبط' لگانے سے مرکب عطفی 'ربط و ضبط' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٥٨ء کو "خطوط غالب" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - میل جول، دوستی۔ "انھوں نے زندگی بھر نہ امراء سے ربط ضبط بڑھایا، نہ ان سے فیض پانے کی کوشش کی۔"      ( ١٩٨٤ء، سراج اورنگ آبادی، ٦٩ ) ٢ - تنظیم یا انضباط کو ملحوظ و برقرار رکھنے کا عمل، نظم و نسق کی درستی و ترتیب۔ "سندھی زبان اس باہمی ربط و ضبط کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، سندھ اور نگاہ قدر شناس، ١٢٠ )

جنس: مذکر